کراچی میں ایم کیو ایم کے دھرنے، اسمبلی کا بائیکاٹ

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاکٹر کام کراچی

سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ سے شروع ہوا، جس کا متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ کر دیا۔

،تصویر کا راستہاے ایف پی

،تصویر کا کیپشن

سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ سے شروع ہوا، جس کا متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ کر دیا۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے چھاپوں کے خلاف اور ایم کیو ایم کے شہر میں آخری جگہ پر دیے جا رہے ہیں جب کہ ایم کیو ایم نے احتجاج کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے صبح سے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے پاس رضویہ، لیاقت آباد، لانڈھی، کلفٹن تین تلوار، نمائش چورنگی، شاہراہِ فیصل، گلشن اقبال، اور ناگن چورنگی پر دھرنے دیے جا رہے ہیں۔

ان دھرنوں اور گرفتاریوں کے لیے شہر میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، اکثر نجی اسکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ کچھ جگہ پر پیٹرول بند ہیں اور جن پر گاڑیوں کی قطاریں نظر آرہی ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ موومنٹ کے رکن اسمبلی اور قومی وزیر فیصل سبزواری نے کہا کہ چھاپہ ان کے پی ایس 126 کے دفتر پر مار کر کے تقریباً 40 افراد گرفتار ہیں جن میں نوجوان اور بزرگ شامل ہیں۔ یہ لوگ عید قربان کے موقعے پر جمع ہونے کے سلسلے میں جمع ہوئے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ترجمان کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد آپ کو آپ سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کیو ایم برسوں کی جانب سے ‘انتہا پسند افراد’ کے خلاف کارروائیوں اور کارروائیوں میں علی الاعلان فوج اور پرملال کی حمایت میں آئی۔

‘ہرکسم دین کے مسائل پر جہاں فوج کی آن، شان اور شان کو نقصان پہنچتا ہے وہاں پر دلائل کے ساتھ فوج کا ساتھ ہے لیکن فوج اور پیراملٹری ٹیم میں کچھ کالی بھیڑ بھی موجود ہیں جن کا دھرم اور ایمان۔ حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا، ماورائے عدالت لاشیں قتل کرنے والوں میں بڑی مہارت حاصل کر لی گئی۔

الطاف کا کہنا ہے کہ ‘میں ان افسوسناک واقعات کی رپورٹس فوج، آئی ایس آئی اور آئی آئی کے اعلیٰ صوبائی وزیر کو بذریعہ اپنے بیانات اور تقاریر حسین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں لیکن افسوس کہ جوان، پارا ملٹری ٹیم 19 جون 1992 کی یاد قانونی چھاپے، گرفتاریاں اور ایم کیو ایم کے ایمانداروں کے ماورائے عدالت قتل کر کے وقتاً فوقتاً مناتے رہتے ہیں۔’

دوسری جانب سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا، جس سے متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ کر دیا، جبکہ کیو ایم کے سربراہ کی طرف سے سندھ میں مزید انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کے خلاف قرارداد پیش نہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ن کے چیئرمین اجلاس کا علامتی بائیکاٹ۔

اپ ڈیٹ کی غیر موجودگی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سندھ کی انتظامیہ کی طرف سے ایم کیو ایم کے خلاف قرارداد منظور کی گئی، جس میں کیو ایم یا اس کے سربراہ الطاف حسین کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ باب ال، اسی اسمبلی کی قرارداد کا نتیجہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف سندھ میں پیدا ہوئے بلکہ اس کے بعد اسلام آباد نے اس کی پارلیمنٹ کو تسلیم کیا۔

قرارداد کے مطابق پاکستان میں نئے قیام کا طریقہ کار موجود ہے، دستور کے مطابق پارٹی یا اتحاد اور قومی اسمبلی میں دو تہائی تین نئے فیصلے حاصل کر لیے جائیں تو وہ صوبائی اسمبلی کا قیام کا مطالبہ کر سکتا ہے، سندھ ایک خود مختار ہے۔ رہا ہے اور بھی رہا ہے ‘مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں’ کے نعروں کے ساتھ یہ قرار داد منظور کر لے۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کہا تھا کہ پاکستان سندھ میں مزید انتظامی اتحاد تیار کیا جائے تاکہ لوگوں کو مسائل حل کرنے میں آسانی ہو۔

Check Also

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ملک احمد خان سپیکر اور ملک ظہیر ڈپٹی سپیکر منتخب ہو گئے۔

نومنتخب سپیکر نے ڈپٹی سپیکر سے حلف لیا۔ اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح 11 …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *